25597- عن نهار البحري قال: قال علي بن أبي طالب: "إياك وصحبة الفاجر، والكذاب، والأحمق، والبخيل، والجبان، فأما الفاجر فيزرى فعله ود أنك مثله فدخوله عليك شين وخروجه من عندك شين، وأما الكذاب فينقل حديثك إلى الناس وحديث الناس إليك فيشب العداوة وينبت السخائم في صدور الناس، وأما الأحمق فلا يهديك لرشد ولا يصرف السوء عن نفسه فبعده خير لك من قربه، وسكوته خير لك من نطقه، وموته خير لك من حياته، وأما البخيل فأقرب ما تكون أبعد ما يكون إذا احتجت، وأما الجبان فحين ينزل بك أمر تحتاج إلى عونه يفر ويدعك.
"وكيع".
25597 ۔۔۔ نہار بحری کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : فاجر جھوٹے ، بیوقوف ، بخیل اور بزدل کی صحبت سے اجتناب کرو ، رہی بات فاجر کی سوا اس کا فعل نہایت کمتر ہوتا ہے وہ یہی چاہے گا کہ تم بھی اس جیسے ہوجاؤ اس کا تمہارے پاس آنا بھی عیب ہے اور اس کا تمہارے پاس سے باہر جانا بھی عیب ہے رہی بات جھوٹے (کذاب) کی سو وہ تمہاری باتیں لوگوں تک پہنچائے گا اور لوگوں کی باتیں تمہیں پہنچائے گا یوں عداوت بھڑک اٹھے گی اور لوگوں کے دلوں میں کینہ جنم لے گا ، رہی بات بیوقوف کی سوا چھائی کی طرف تمہاری رہنمائی کبھی نہیں کرسکتا وہ تو اپنی ذات سے برائی کو دور نہیں کرسکتا اس کی دوری اس کے قریب سے بدرجہا بہتر ہے اس کا خاموش رہنا اس کی گفتگو سے بہتر ہے اسی موت اس کی حیات سے بہتر ہے رہی بات بخیل کی سو جب تمہیں اس کی حاجت پیش آئے گی وہ باوجود تمہارے قریب ہونے کے تم سے دور رہے گا رہی بات بزدل کی سو جب تم مشکل میں گرفتار ہو گے اور تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی وہ تمہیں اکیلا چھوڑ کر بھاگ جائے گا ۔ (رواہ وکیع)