25608- عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: "قلت يا رسول الله ما حق جاري علي؟ قال: "إن مرض عدته، وإن مات شيعته، وإن استقرضك أقرضته وإن عري سترته، وإن أصابه خير هنيته، وإن أصابته مصيبة عزيته، ولا ترفع بناءك فوق بنائه فتسد عليه الريح، ولا تؤذيه بريح قدرك إلا أن تغرف له منها ". "هب". مر برقم [24897] .
25608 ۔۔۔ بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھ پر پڑوسی کے کیا حقوق ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تمہارا پڑوسی بیمار پڑجائے تو تم اس کی عیادت کرو اگر مرجائے تم اس کے جنازے کے ساتھ ساتھ چلو اگر تم سے قرض مانگے تم اسے قرض دو اگر اسے کپڑوں کی ضرورت ہو تم اسے کپڑے پہنچاؤ اگر اسے کوئی اچھائی نصیب ہو تم اسے مبارک باد دو ، اگر اسے کوئی مصیبت پیش آئے تم اسے تسلی دو اس کی عمارت سے اپنی عمارت اونچی نہ بناؤ کہ تازہ ہوا اس تک نہ پہنچے پائے اور تم اپنی ہنڈیا کی بو سے اسے اذیت نہ پہنچاؤ ، ہاں البتہ پکے ہوئے میں سے اس کا بھی کچھ حصہ کر دو ، (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان) حدیث 24897 نمبر پر گزر چکی ہے۔