25622- عن هشام بن حبيش قال: "أرسل إلي عمر بن الخطاب فرأيته في جماعة من أصحابه نزل عن راحلته ثم حط رحله ثم قيد راحلته كرجل من أصحابه ثم حس ركاب القوم فوجد فيها راحلة مقاربا لها من قيدها فأرخى لها عمر بن الخطاب، ثم أقبل يتغيظ أرى الغيظ في وجهه فقال: أيكم صاحب الراحلة؟ فقال رجل: أنا قال: بئس ما صنعت تبيت على فؤاده وتضرب صدره حتى إذا حان رزقه جمعت بين عظمين من عظامه". "الروياني".
25622 ۔۔۔ ہشام بن جیش کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو میں نے اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت میں دیکھا آپ اپنی سواری سے نیچے اترے پھر عام آدمی کی طرح سواری سے کجاوہ اتارا پھر سواری کو باندھ دیا ، پھر لوگوں کی سواریوں کی طرف متوجہ ہوئے ان میں اپنی سواری کے قریب ایک سواری دیکھی آپ نے اس کا کجاوہ اتار دیا پھر سخت غصہ میں متوجہ ہوئے حتی کہ میں ان کے چہرے پر غصہ نمایاں دیکھ رہا تھا آپ نے فرمایا : اس سواری کا مالک کون ہے ؟ ایک شخص نے کہا : اس کا مالک میں ہوں ، فرمایا : تو نے بہت برا کیا تو نے اس کے سینے پر رات گزاری اس کے سینے کو مارتا رہا حتی کہ جب اس کے رزق کا وقت قریب تر ہوگیا تو نے اس کی دو ہڈیوں کو علیحدہ ہڈیوں کے درمیان جمع کرکے رکھ دیا ۔ (رواہ الرویانی)