25636- عن جنادة بن جرادة أحد بني غيلان قال: "بعثت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بإبل قد وسمتها في أنفها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما وجدت فيها عضوا تسمه إلا في الوجه؟ أما إن أمامك القصاص"، فقال: أمرها إليك يا رسول الله فقال: "ائتني بشيء ليس عليه وسم" فأتيته بابن لبون وحقة فوضعت الميسم في العنق فلم يزل يقول: "أخر أخر" حتى بلغ الفخذ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "سم على بركة الله" فوسمتها في أفخاذها وكان صدقتها حقتان وكانت تسعين". "قط في المؤتلف والباوردي وابن شاهين وابن قانع وابن السكن وقال لا أعلم له غيره طب وأبو نعيم ض".
25636 ۔۔۔ قبیلہ بن غیلان کا ایک شخص جنادہ بن جرادہ کہتا ہے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اونٹ بھیجے جن کی ناک پر میں نے داغ لگا رکھا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے منہ کے علاوہ کوئی اور جگہ داغنے کے لیے نہیں پائی ؟ خبردار تمہیں آگے جا کر اس کا بدلہ دینا ہوگا اس شخص نے عرض کیا : ان اونٹوں کا معاملہ آپ کو سپرد ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : میرے پاس ایسا اونٹ لاؤ جس پر داغ نہ لگایا گیا ہو چنانچہ میں نے ایک بنت لبون (اونٹ کا بچہ جیسے دو سال پورے ہوچکے ہوں تیسرے سال میں چل رہا ہو) اور ایک حقہ (جس کے تین سال پورے ہوچکے ہوں اور چوتھے سال میں چل رہاق ہو ) لایا میں نے ان کی گردن پر داغ لگانا چاہا آپ برابر فرماتے رہے پیچھے داغ لگاؤ پیچھے داغ لگاؤ حتی کہ وہ شخص ران پر پہنچا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ کا نام لے کر یہیں داغ لگاؤ چنانچہ میں نے اونٹوں کی رانوں پر داغ لگائے ان اونٹوں کا صدقہ دو حصے تھے جب کہ اونٹوں کی تعداد نوے (90) تھی ۔ (رواہ الدار قطنی فی المؤتلق والب اور دی وابن شاھین وابن قانع وابن السکن وقال لا علم لہ غیرہ والطبرانی وابو نعیم والضیاء )