25656- "مسند عمر رضي الله عنه"ْ عن أنس قال: "دخلت على عمر بن الخطاب أمة قد كان يعرفها لبعض المهاجرين وعليها جلباب مقنعة به فسألها عتقت؟ قالت: لا، قال: فما بال الجلباب ضعيه عن رأسك إنما الجلباب على الحرائر من نساء المؤمنين فتلكأت 2، فقام إليها بالدرة فضرب بها رأسها حتى ألقته عن رأسها". "ش".
25656 ۔۔۔ ’ مسند عمر (رض) “۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ ایک باندی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئی آپ (رض) اسے پہچانتے تھے وہ ایک مہاجر کی باندی تھی اس نے چادر سے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا آپ (رض) نے اس سے پوچھا : کیا تو آزاد ہوچکی ہے ؟ جواب دیا نہیں فرمایا : پھر تو نے چادر کیوں اوڑھ رکھی ہے سر سے چادر اتار دو ، چادریں تو مومنین کی آزاد عورتوں کے لیے ہیں، باندی نے چادر اتارنے میں قدرے توقف کیا ، آپ (رض) کوڑا لے کر اس کی طرف بڑھے اور سر پر کوڑا دے مارا حتی کہ باندی نے سر سے چادر اتار دی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)