25662- عن أبي عمران الفلسطيني قال: "بينا امرأة عمرو بن العاص تفلي رأسه إذ نادت جارية لها فأبطأت عنها فقالت: يا زانية، فقال عمرو: رأيتها تزني؟ قالت: لا، قال: والله لتضربن لها يوم القيامة ثمانين سوطا فقالت لجاريتها: وسألتها تعفو عنها، فعفت عنها، فقال لها عمرو: ما لها لا تعفو عنك وهي تحت يدك فأعتقيها، فقالت: هل يجزى عن ذلك؟ قال: فلعل". "كر".
25662 ۔۔۔ ابو عمران فلسطینی روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن العاص (رض) کی بیوی ان کے سر سے جوئیں نکال رہی تھی اچانک بیوی کی باندی نے آواز دی ، بیوی نے جھڑک کر کہا : اے زانیہ حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : کیا تو نے اسے زنا کرتے دیکھا ہے ؟ جواب دیا : نہیں ، حضرت عمرو (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم قیامت ک دن اس کے بدلہ میں تجھے (80) کوڑے لگائے جائیں گے بیوی نے اپنی باندی سے کہا : مجھے معاف کر دو ، باندی نے معاف کردیا حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : بھلا وہ تمہیں معاف کیوں نہیں کرے گی ، حالانکہ تمہاری ملکیت میں ہے۔ لہٰذا اسے آزاد کر دے ، بیوی بولی : کیا اسے آزاد کرنے سے میرا گناہ معاف ہوجائے گا ؟ حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : امید ہے معاف ہوجائے گا ۔ (رواہ ابن عساکر)