25680-عن استق قال: "كنت مملوكا لعمر بن الخطاب وأنا نصراني فكان يعرض علي الإسلام ويقول: إنك إن أسلمت استعنت بك على أمانتي فإنه لا يحل لي أن أستعين بك على أمانة المسلمين ولست على دينهم فأبيت عليه فقال: لا إكراه في الدين، فلما حضرته الوفاة أعتقني وأنا نصراني وقال: اذهب حيث شئت". "ابن سعد".
25680 ۔۔۔ استق کہتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کا غلام تھا اور میں نصرانی تھا عمر (رض) مجھ پر اسلام پیش کرتے تھے اور ر فرماتے اگر تو اسلام قبول کرلے گا تو میں سرکاری امور میں تجھ سے مدد لوں گا چونکہ میرے لیے حلال نہیں کہ مسلمانوں کے امور میں تجھ سے مدد لوں دراں حالیکہ تو مسلمانوں کے دین پر نہ ہو ۔ میں نے قبول اسلام سے انکار کردیا ۔ آپ (رض) نے فرمایا : دین میں کوئی زبردستی نہیں ۔ جب آپ (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا آپ نے مجھے آزاد کردیا جب کہ میں نصرانی ہی تھا آپ نے فرمایا جہاں چاہو چلے جاؤ (رواہ ابن سعد )