hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 25703

.

كنز العمال

25703
Kanz al-Ummal
25703- "أيضا" "إن المرء المسلم إذا خرج من بيته يعود أخاه المسلم خاض من الرحمة إلى حقويه فإذا جلس عند المريض غمرته الرحمة وغمرت المريض الرحمة، وكان المريض في ظل عرشه، وكان العائذ في ظل قدسه، ويقول الله لملائكته: انظروا كم احتبسوا عند المريض للعود فيقولون: أي رب فواقا إن كان احتبسوا فواقا، فيقول الله لملائكته: اكتبوا لعبدي عبادة ألف سنة قيام ليله وصيام نهاره وأخبروه أني لم أكتب عليه خطيئة واحدة، ويقول الله لملائكته: انظروا كم احتبسوا؟ فيقولون: ساعة إن كان احتبسوا ساعة، فيقول: اكتبوا دهرا، والدهر عشرة آلاف سنة إن مات قبل ذلك دخل الجنة، وإن عاش لم يكتب عليه خطيئة واحدة، وإن كان صباحا صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يمسي وكان في خراف الجنة، وإن كان مساء صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح وكان في خراف الجنة". "ع عن أنس".
25703 ۔۔۔ ” ایضا “ جب مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات کے لیے گھر سے نکلتا ہے وہ اپنی کوکھ تک رحمت میں ڈوب جاتا ہے جب مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے اسے رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور مریض کو بھی رحمت ڈھانپ لیتی ہے جبکہ مریض رب تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوتا ہے اور رب تعالیٰ کی تقدیس کے سائے کی پناہ میں ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے : دیکھ مریض کے پاس اس کی عیادت کے لیے کتنے وقت تک رکے رہے ہیں فرشتے کہتے ہیں : اونٹنی کی دو بار دوددھ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے برابر اسے ہمارے رب ! ٹھہرے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کے لیے ایک ہزار سال کی عبادت لکھ دو جس میں راتوں کا قیام اور دنوں کے روزوں کا ثواب شامل ہو اور اسے خبر کر دو کہ میں تمہارے اوپر ایک خطا بھی نہیں لکھوں گا اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : دیکھو عبادت کرنے والے کتنی دیر ٹھہرے رہتے ہیں ؟ فرشتے کہتے ہیں : گھڑی بھر کے لیے ٹھہرے ہیں ، اگر عیادت کرنے والے گھڑی بھر کے لیے ٹھہرے ہوں ۔ رب تعالیٰ فرماتے ہے : اس کے نامہ اعمال میں دہر بھر کی عبادت لکھ دو اور دہر دس ہزار کے برابر ہے اگر اس سے قبل مرگیا جنت میں داخل ہوجائے گا اگر زندہ رہا اس کے نامہ اعمال میں ایک خطا نہیں لکھی جائے گی ، اگر اس نے صبح کے وقت عیادت کی ہو تو شام تک فرشتے اس کے لیے دعائے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کے وقت عیادت کی ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے استغفار کرتے رہتے ہیں اور وہ جنت میں میوہ خوری کررہا ہوتا ہے۔ (رواہ ابو یعلی عن انس (رض))