25716- عن ابن عمر "أن الأغر وهو رجل من مزينة قال: كانت له أوسق من التمر على رجل من بني عمرو بن عوف فاختلف إليه مرارا، قال: فجئت النبي صلى الله عليه وسلم فأرسل معي أبا بكر الصديق قال: فكل من لقينا سلموا علينا، فقال أبو بكر: ألا ترى الناس يبدؤنك بالسلام فيكون لهم الأجر، ابدأهم بالسلام يكن لك الأجر". "خ في الأدب وابن جرير وأبو نعيم في المعرفة والخرائطي في مكارم الأخلاق".
25716 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ اغر مزنی (رض) کی چند وسق کھجوریں بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص پر تھیں بارہا اس شخص کے پاس جاتے رہے وہ کہتے ہیں پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے میرے ساتھ ابوبکر صدیق (رض) کو بھیجا چنانچہ راستے میں جو شخص ہم سے ملتا وہ ہمیں سلام کرتا تھا ابوبکر (رض) نے فرمایا : کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگ تجھ کو پہلے سلام کرتے ہیں اور انھیں اجر زیادہ ملتا ہے۔ اگر تم ان کو پہلے سلام کیا کرو تو تمہارے لیے پہل کرنے کا زیادہ ثواب ہوگا (رواہ البخاری فی الادب المفرد وابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والخرائطی فی مکارم الاخلاق ) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 3329 ۔ وکشف الخفاء 1376 ۔