hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 25991

.

كنز العمال

25991
Kanz al-Ummal
25991- عن طارق بن شهاب قال: "خرج قوم من الأنصار من الكوفة إلى المدينة فأتوا على حي من بني أسد وقد أرملوا فسألوهم البيع وقد راح لهم مال لهم حين قالوا ما عندنا بيع فسألوهم القرى؛ فقالوا: ما نطيق قراكم، فلم يزل بينهم وبين الأعراب حتى اقتتلوا فتركت لهم الأعراب البيوت وما فيها، وأخذوا لهم لكل عشرة منهم شاة فأتوا عمر فذكروا ذلك له فقام فحمد الله وأثنى عليه وقال: لو كنت تقدمت في هذا لفعلت وفعلت، ثم كتب إلى أهل الأمصار وأهل الذمة بنزل ليلة الضيف".
25991 ۔۔۔ طارق بن شہاب (رح) کہتے ہیں انصار کے کچھ لوگ کوفہ سے مدینہ کی طرف نکلے اور دوران سفر بنی اسد کی ایک بستی پر سے ان کا گزر ہوا ان لوگوں کا زاد راہ ختم ہوگیا اور بھوکوں مرنے لگے ، انھوں نے بستی والوں سے کچھ خریدنے کا مطالبہ کیا ، جبکہ ان کے مال مویشی شام کو چراگاہوں سے واپس آرہے تھے اور انھوں نے جواب دیا ہمارے پاس بیچنے کو کچھ نہیں مسافروں نے مہمانداری کا سوال کیا بستی والوں نے کہا ہم اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے چنانچہ مسافروں اور بستی والو کے درمیان توں تکرار بڑھنے لگا اور قتال تک نوبت پہنچ گئی بستی والوں نے مسافروں کے لیے اپنے گھر خالی کر دئیے چنانچہ مسافروں نے ہر دس آدمیوں کے لیے ایک بکری لی بعد میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کھڑے ہوئے حمد وثنا کے بعد فرمایا : اگر مجھے اس کی پیشگی خبر ہوتی میں ایسا اور ایسا کرتا پھر آپ نے تمام شہروں میں اہل ذمہ کو خطوط لکھے اور ان میں مہمان کی مہمانداری کا حکم دیا ۔