26333- "لا بأس إنما هو جذبة منك". "عبد الرزاق عن أبي أمامة أن رجلا قال: يا رسول الله مسست ذكري وأنا أصلي قال:" فذكره".
26333 ۔۔۔ کوئی حرج نہیں یہ بھی تو تمہارے بدن کا ایک لوتھڑا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق عن ابی امامۃ) ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نماز میں اپنے عضو مخصوص کو چھو لیتا ہوں اس پر آپ نے یہ حدیث فرمائی ۔ فائدہ ۔۔۔ مسئلہ مجوث عنہا یعنی مس کرنے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں ۔ علماء امت کا اس میں اختلاف ہے چنانچہ مالک شافعی واحمد رحہم اللہ کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے جبکہ ابوحنیفہ (رح) وثوری وغیرھم کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا ۔ اگر دیکھا جائے تو مس ذکر میں ابتلاء ہے آزمائش شدیدہ ہے اور حرج عظیم ہے جبکہ حرج مدفوع ہے اس لیے وضو کا نہ ٹوٹنا اولی واثبت ہے۔ البتہ اگر شہوت رانی سے مس ذکر ہو تو غالب امکان خروج مذی وغیر کا ہوتا ہے اس اعتبار سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔