26895 عن الحسين بن علي قال : دعا علي بوضوء فقرب له ، فغسل كفيه ثلاث مرات قبل أن يدخلهما في وضوئه ، ثم مضمض ثلاثا ، وأستنشق ثلاثا ، ثم غسل وجهه ثلاثا ، ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاثا ، ثم اليسرى كذلك ، ثم مسح برأسه مسحة واحدة ، ثم غسل رجله اليمنى إلى الكعبين ثلاثا ، ثم اليسرى كذلك ، ثم قام قائما فقال لي : ناولني فناولته الذي فيه فضل وضوئه فشربه قائما فعجبت فلما رأى عجبي قال : لا تعجب فأني رأيت أباك النبي صلى الله عليه وسلم يصنع مثل ما رأيتني يقول بوضوئه هذا ويشرب فضل وضوئه قائما. (ن والطحاوي وأبن جرير وصححه ، ش).
26895 ۔۔۔ حسین بن علی (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے وضو کے لیے پانی طلب کیا چنانچہ برتن آپ کے قریب کردیا گیا آپ نے ہتھیلیاں تین دھوئیں برتن میں داخل کرنے سے قبل ، پھر تین بار کلی کی تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر تین بار چہرہ دھویا پھر کہنی تک تین بار دایاں ہاتھ دھویا پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا ، پھر ایک ہی بار سر پر مسح کیا پھر دایاں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھویا پھر بایاں پاؤں اسی طرح دھویا نہ پھر کھڑے ہوئے اور مجھ سے کہا برتن مجھے دو چنانچہ پانی والا برتن میں نے آپ (رض) کو تھما دیا آپ نے کھڑے کھڑے بچا ہوا پانی پیا میں نے ایسا کرنے پر تعجب کیا جب آپ (رض) نے میرا تعجب دیکھا فرمایا : تعجب مت کرو چونکہ میں نے تمہارے باپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح میں نے کیا ہے آپ (رض) نے وضو اور کھڑے ہو کر پانی پینے کی طرف اشارہ کیا ۔ (رواہ النسائی والطحاوی وابن جریر وصححہ وابن ابی شیبۃ)