26984- عن علي قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة، ولأخرت العشاء إلى ثلث الليل الأول، فإنه إذا مضى ثلث الليل الأول هبط الله إلى سماء الدنيا فلم يزل هنالك حتى يطلع الفجر فيقول: ألا سائل يعطى سؤله؟ ألا داع يجاب؟ ألا سقيم يستشفي؟ ألا مذنب يستغفر فيغفر له". "عثمان بن سعيد الدارمي في الرد على الجهمية، قط في أحاديث النزول".
26984 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ ۔ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا ڈر نہ ہوتا میں انھیں ہر نماز کے وقت وضو کرنے کا حکم دیتا اور تہائی رات تک عشاء کی نماز مؤخر کرنے کا حکم دیتا چونکہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے رب تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لے آتے ہیں پھر طلوع فجر تک یہیں رہتے ہیں رب تعالیٰ فرماتے رہتے ہیں کوئی مانگنے والا ہے جسے میں عطا کروں کوئی دعا کرنے والا ہے جس کی دعا قبول کی جائے کوئی بیمار ہے جو شفا کا خواستگار ہو ؟ کوئی گناہ گار ہے جو گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہو سو اس کی بخشش کردی جائے ۔ (رواہ عثمان بن سعید اروافی فی المدد علی الجھمۃ والدارقطنی فی احادیث النزول)