2711 – "إن الله تعالى ليسمع إلى قراءة لم يكن الذين كفروا فيقول أبشر عبدي فوعزتي لأمكنن لك في الجنة حتى ترضى". (أبو نعيم) في المعرفة من طريق عبد الله بن أسلم عن ابن شهاب عن اسمعيل بن أبي حكيم المديني ثم أحد بني فضل وقال: هذا منقطع واسمعيل تابعي وقال الحافظ ابن حجر في زهر الفردوس كأن الصواب على أحد بني فضيل وعبد الله ضعفه الدارقطني.
(الزلزلت (1))
2711 ۔۔ اللہ تعالیٰ " لم یکن الذین کفروا " کی قراءت سنتے ہیں، تو فرماتے ہیں، میں اپنے بندے کو خوشخبری دیتا ہوں کہ میری عزت کی قسم ! میں تجھے جنت میں ایسا ٹھکانا مرحمت کروں گا کہ تو خوش ہوجائے گا۔ (ابو نعیم فی المعرفۃ)
اس طریق سے۔۔۔ عبداللہ بن اسلم، ابن شہاب سے، وہ اسماعیل بن ابی حکیم المدنی سے، پھر بنی فضل کے کسی شخص سے۔ مصنف فرماتے ہیں یہ روایت منقطع ہے درمیان میں کوئی راوی چھوٹا ہوا ہے۔ کیونکہ اسماعیل تابعی ہیں۔ اور حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ بنی فضیل کے کسی شخص پر موقوف ہو۔ لیکن اس سے صرف نظر کریں تب بھی عبداللہ آخری راوی کو امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔