27132- عن عبد الله بن شداد بن الهاد قال: قال أبو هريرة: "الوضوء مما مست النار فقال مروان: كيف يسأل أحد وفينا أزواج نبينا صلى الله عليه وسلم وأمهاتنا فأرسلني إلى أم سلمة فسألتها فقالت: أتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد توضأ فناولته عرقا أو كتفا فأكل ثم قام إلى الصلاة ولم يتوضأ". "عب".
27132 ۔۔۔ عبداللہ بن شداد بن ھاد کی روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : آگ چھوئی ہوئی چیزوں سے وضو واجب ہوتا ہے مروان نے کہا : کسی اور سے کیوں سوال کیا جائے جب کہ ہمارے درمیان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج اور ہماری مائیں موجود ہیں چنانچہ مراون نے مجھے (عبداللہ بن شداد کو) ام سلمہ (رض) کے پاس بھیجا میں نے ان سے سوال کیا انھوں نے کہا : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باوضو میرے پاس تشریف لائے میں نے آپ کو ہڈی یا بکری کا شانہ پیش کیا آپ نے تناول فرمایا پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ (راوہ عبدالرزاق)