27150- عن ابن عمرو الشباني "أن عليا استتاب المستورد العجلي وهو يريد الصلاة قال: إني أستعين بالله عليك، فقال: إني أستعين بالمسيح عليك فأهوى علي بيده إلى عنقه فإذا هو بصليب فقطعه، فلما دخل في الصلاة قدم رجلا وذهب ثم أخبر الناس أنه لم يحدث ذلك لحدث أحدثه ولكن من هذه الأنجاس فأحب أن يحدث منها وضوءا". "عب".
27150 ۔۔۔ ابن عمر وشبانی روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) مستورد عجلی کو توبہ کرنے کی ترغیب دے رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے جا رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تیرے اوپر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہوں مستورد بولا : میں عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) سے تیرے اوپر مدد مانگتا ہوں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے مستورد کی گردن کی طرف ہاتھ بڑھایا کیا دیکھتے ہیں کہ اس کی گردن میں صلیب پڑی ہوئی ہے آپ (رض) نے صلیب توڑ دی جب آپ (رض) نماز میں داخل ہوئے ایک شخص کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا اور خود وضو کرنے چلے گئے پھر لوگوں کو خبر دی کہ کسی حدث کی وجہ سے میرا وضو نہیں ٹوٹا لیکن میں اس نجاست (صلیب) کی وجہ سے وضو کرنا اچھا سمجھتا ہوں ۔۔ (رواہ عبدالرزاق)