27168- عن أبي طلحة عن المغيرة أن النبي صلى الله عليه وسلم "أكل طعاما، ثم أقيمت الصلاة وقد كان توضأ قبل ذلك فأتيته بماء ليتوضأ فانتهرني وقال: "وراءك" فساءني والله ذلك، ثم صلى فشكوت ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال: يا رسول الله إن المغيرة قد شق عليه انتهارك إياه حتى أن يكون في نفسك عليه شيء فقال: "ليس في نفسي عليه إلا خيرا ولكنه أتاني بماء لأتوضأ وإنما أكلت طعاما ولو فعلت ذلك فعل الناس ذلك بعدي". "ض، ش".
27168 ۔۔۔ ابو طلحہ ، مغیرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھانا تناول فرمایا : پھر نماز کھڑی کردی گئی آپ قبل ازیں وضو کرچکے تھے میں آپ کے پاس وضو کے لیے پانی لایا آپ نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا پیچھو ہٹو بخدا مجھے ایسا کرنے پر سخت پریشانی ہوئی پھر آپ نے نماز پڑھی اور میں نے اس جھڑک کی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے شکایت کی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : یا رسول اللہ ! مغیرہ پر آپ کی جھڑک بہت گراں گزری ہے حتی کہ شاید آپ کے دل میں اس کے متعلق کچھ بات ہو ؟ آپ نے فرمایا : میرے دل میں اس کے متعلق بھلائی ہی بھلائی ہے لیکن وہ میرے پاس پانی لایا تھا تاکہ میں وضو کروں ، حالانکہ میں نے تو صرف کھانا کھایا ہے، اگر میں وضو کرلیتا میرے بعد لوگ بھی ایسا کرتے ۔ (رواہ ایضا، ابن ابی شیبۃ)