27306 (أيضا) من طريق نافع عن سليمان بن يسار قال : حدثنا من كان مع عمر بن الخطاب في سفر فأصابته جنابة وليس معه ماء فقال : أترونا لو (1) رفعنا ندرك الماء قبل طلوع الشمس ؟ قالوا : نعم ، قال : فرفعوا دوابهم فجاؤا الماء قبل طلوع الشمس فأغتسل عمرو وأخذ يغسل ما أصاب ثوبه من الجنابة فقال له عمرو بن العاص أو المغيرة يا أمير المؤمنين لو صليت في غير هذا الثوب ؟ فقال : أتريد أن لا أصلي في ثوب أصابته جنابة فيقال : إن عمر لم يصل في ثوب أصابته جنابة ؟ لا بل أغسل ما رأيت وأرش ما لم أر (عب).
27306 ۔۔۔ ” ایضا “ نافع ، سلیمان بن یسار کے طریق سے مروی ہے ہمیں ایک شخص نے حدیث سنائی ہے جو سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ سفر میں شریک تھا جس سفر میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو احتلام ہوگیا تھا ۔ جبکہ آپ کے پاس پانی نہیں تھا آپ نے فرمایا : ذرا تیز چلو ، ہوسکتا ہے طلوع آفتاب سے پہلے ہمیں پانی مل جائے، لوگوں نے کہا : جی ہاں لوگوں نے اپنی سواریاں تیار کیں اور پانی تک جا پہنچے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے غسل کیا اور پھر کپڑوں پر لگی ہوئی منی دھونے لگے آپ (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) یا مغیرہ (رض) نے کہا اے امیر المؤمنین اگر آپ دوسرے کپڑوں میں نماز نہیں پڑھی جس میں انھیں جنابت لاحق ہوئی تھی ؟ نہیں بلکہ میں دکھائی دینے والی منی دھو لوں گا اور نہ دکھائی دینے والی پر پانی کے چھینٹے مار لوں گا ۔ (رواہ عبدالرزاق)