27308 عن أبن جرير قال : حدثني بعض أهل المدينة قال حديث مثبت عندنا أن عمر بن الخطاب كان يركب في كل جمعة ركبتين : إحداهما ينظر في أموال يتامى المهاجرين ، والاخرى ينظر في أرقاء الناس مما يبلغ منهم حتى إذا كان يوما في بعض ذلك الجرف أدخل يده فوجد شيئا فقال : إني لاظنني قد صليت جنبا ، إنا إذا أصبنا الودك لانت عروقنا ثم أغتسل فصلى الصبح ولم يأمر الناس أن يصلوها.
27308 ۔۔۔ ابن جریر کی روایت ہے کہ مجھے اہل مدینہ کے ایک شخص نے حدیث سنائی ہے اور کہا ہے یہ حدیث ہمارے نزدیک ثابت شدہ ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ہر ہفتہ دو مرتبہ سوار ہو کر باہر تشریف لے جاتے تھے ایک مرتبہ مہاجرین یتامی کے اموال کو دیکھنے کے لیے اور دوسری مرتبہ لوگوں کے غلاموں کو دیکھنے کے لیے ، چنانچہ ایک دن اسی سلسلہ میں آپ مقام صرف پہنچے ، شلوار میں ہاتھ ڈال کر دیکھا اور کچھ محسوس ہوا فرمایا میرا خیال ہے کہ میں نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھ لی ہے ہم جب چربی کھالیتے ہیں تو ہماری رگیں نرم ہوجاتی ہیں پھر آپ (رض) نے غسل کیا اور صبح کی نماز (دوبارہ) پڑھی جب کہ آپ (رض) نے لوگوں کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا ۔