27479- عن أبي مليكة قال: "قدم عمر بن الخطاب مكة فكان يتوضأ بأجياد فذهب يوما إلى حاجته فلقي طحيل بن رباح أخا بلال بن رباح فقال: من أنت؟ قال: أنا طحيل بن رباح قال: بل أنت خالد بن رباح، فأخذ بيده حتى مضى، ثم قال: اطلب لي ماء أتوضأ به، فذهب ثم جاء فقال: لم أجد إلا ماء في بيت بغي من بغايا الجاهلية؛ قال: اذهب فأتني به فإن الماء لا ينجسه شيء". "ابن السني في الأخوة".
27479 ۔۔۔ ابو ملیکہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) مکہ مکرمہ تشریف لائے آپ (رض) مقام اجیاد میں وضو کیا کرتے تھے چنانچہ ایک دن آپ (رض) رفع حاجت کے لیے گئے اور طحیل بن رباح سے ملاقات ہوگئی جو کہ بلال بن رباح کے بھائی تھے فرمایا : تم کون ہو ؟ جواب دیا میں طحیل بن رباح ہوں فرمایا : بلکہ تم خالد بن رباح ہو ، آپ نے خالد بن رباح کا ہاتھ پکڑا اور آگے بڑھ گئے پھر فرمایا : میرے لیے پانی تلاش کرو تاکہ میں وضو کروں خالد چلے گئے اور پھر واپس آئے کہا : میں نے پانی نہیں پایا البتہ جاہلیت کی طوائف میں سے ایک طائفہ (زانیہ) کے گھر میں پانی ہے۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جاؤ ، میرے لیے وہی پانی لاؤ پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ (رواہ ابن اسنی فی الاخوۃ)