27491- "مسند أبي سعيد" "قيل: يا رسول الله أنتوضأ من بئر بضاعة وهي بئر يلقى فيها الحيض ولحوم الكلاب والنتن؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الماء طهور لا ينجسه شيء". "ش".
27491 ۔۔۔ ” مسند ابی سعید “ ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم بضاعت کے کنویں (کے پانی) سے وضو کرسکتے ہیں حالانکہ اس کنویں میں حیض کے چھیچڑے کتوں کی لاشیں اور دوسری بدبودار چیزیں پھینکی جاتی ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی پاک ہے اسے کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) فائدہ : ۔۔۔ بظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اتنی زیادہ گندگیاں اور نجاستیں بھی پڑنے کے باوجود پانی ناپاک نہیں ہوتا لیکن یہ دوسرے دلائل کے صریح خلاف ہے۔ لامحالہ حدیث مؤول ہے چنانچہ حدیث کی مختلف توجیہات بیان کی گئی ہیں : 1: ۔۔۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو خیال ہوا کہ یہ کنواں نشیب میں ہے جہاں ممکن ہے یہ چیزیں اس میں پڑتی ہوں اور پانی ناپاک ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا وہم دور کیا اور فرمایا پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ 2: ۔۔۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جاہلیت میں اس کنویں سے کوڑی کا کام لیا جاتا تھا تو آپ نے اس وہم کا بھی ازالہ فرمایا۔ 3 ۔۔۔ جبکہ امام طحاوی (رح) کے نزدیک اس کنویں کا پانی جاری پانی تھا ۔ واللہ اعلم ۔ از مترجم۔