27563- عن عبد الرحمن بن جبير عن عمرو بن العاص قال: "لما بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم عام ذات السلاسل احتلمت في ليلة باردة شديدة البرد فأشفقت إن اغتسلت أن أهلك، فتيممت ثم صليت بأصحابي صلاة الصبح، فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرت ذلك له فقال: "يا عمرو صليت بأصحابك وأنت جنب"؟ قلت: نعم يا رسول الله إني احتلمت في ليلة باردة شديدة البرد فأشفقت إن اغتسلت أن أهلك وذكرت قول الله عز وجل {وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيماً} فتيممت ثم صليت فضحك النبي صلى الله عليه وسلم ولم يقل شيئا". "حم".
27563 ۔۔۔ عبدالرحمن بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت عمر وبن العاص (رض) نے فرمایا : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غزوہ ذات السلاسل کے لیے روانہ کیا تو مجھے سخت سردی والی رات احتلام ہوگیا مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا ہلاک ہوجاؤں گا میں نے تیمم کیا اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹے میں نے آپ سے اس کا تذکرہ کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمرو ! تم نے بحالت جنابت اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس رات مجھے احتلام ہوا وہ رات نہایت درجے کی ٹھنڈی تھی مجھے خوف ہوا کہ اگر غسل کیا تو مرجاؤں گا مجھے فرمان باری تعالیٰ یاد آگیا (ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما) یعنی اپنے آپ کو مت قتل کرو اللہ تبارک وتعالیٰ تمہارے اوپر رحم فرمانے والا ہے۔ لہٰذا میں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور کچھ نہیں فرمایا : (رواہ احمد بن حنبل)