27568- عن أبي ذر قال: "قدمت غنيمة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ابد فيها يا أبا ذر" فبدوت فكانت تصيبني الجنابة فأمكث الخمس والست، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ثكلتك أمك يا أبا ذر" فدعا بعس من ماء، فاستترت بالراحلة، ثم اغتسلت فكأني ألقيت عني جبلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا ذر الصعيد الطيب وضوء المسلم ولو إلى عشر سنين فإذا وجدت الماء فأمسه جلدك فإن ذلك خير". "ض".
27568 ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے وہ کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ بکریاں آئیں آپ نے مجھے حکم دیا اے ابوذر ! ان بکریوں کو لے کر دیہات میں چلے جاؤ چنانچہ میں دیہات میں چلا گیا وہاں مجھے جنابت لاحق ہوئی تقریبا پانچ چھ دن اسی حالت میں رہا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا : اے ابو ذر ! تیری ماں تجھے گم پائے آپ نے ایک بڑا سا برتن پانی سے بھرا ہوا منگوایا میں نے سواری کی اوٹ میں غسل کیا ، مجھے یوں محسوس ہوا گویا میں نے اپنے اوپر سے پہاڑ اٹھا کر پھینک دیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر ! پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو کرنے کی چیز ہے اگرچہ دس سال تک کیوں نہ ہو جب پانی پاؤ غسل کرلو ۔ (رواہ الضیاء)