27650- "أيضا" "كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك فلما كان ببعض الطريق تخلف وتخلفت معه بالإداوة، فتبرز ثم أتاني فسكبت على يده وذلك عند صلاة الصبح، فلما غسل وجهه وأراد غسل ذراعيه ضاق كم جبته وعليه جبة شامية، فأخرج يديه من تحت الجبة فغسل ذراعيه، ثم مسح على خفيه، ثم انتهينا إلى القوم وقد صلى بهم عبد الرحمن بن عوف ركعة فذهبت أؤذنه فقال: "دعه" ثم انصرف فقام النبي صلى الله عليه وسلم فصلى ركعة ففزع الناس لذلك فقال: "أصبتم أو قال: أحسنتم". "عب".
27650 ۔۔۔ حضرت مغیرہ (رض) روایت کی ہے کہ میں غزوہ تبوک میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا راستے میں ایک جگہ آپ لشکر سے پیچھے رہنے لگے میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہونے لگا آپ کے پاس پانی کا ایک برتن تھا آپ رفع حاجت سے فارغ ہو کر میرے پاس آئے میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا یہ صبح کی نماز کا وقت تھا ، جب آپ نے چہرہ دھویا تو آپ نے ہاتھوں کو دھونا چاہا مگر جبے کی آستیں تنگ ہونے کی وجہ سے ہاتھ باہر نہ نکل سکا آپ نے شامی جبہ پہن رکھا تھا ، آپ نے ہاتھ تو جبے کے نیچے سے نکالے اور دونوں ہاتھ دھو لیے پھر موزوں پر مسح کیا پھر ہم لوگوں تک پہنچے اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ، میں نے عبدالرحمن (رض) کو بتانا شروع کردیا آپ (رض) نے فرمایا : اسے چھوڑ دو پھر آپ پیچھے ہٹ آئے اور (پیچھے) کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھی لوگ آپ کو دیکھ کر گھبرا گئے آپ نے فرمایا : تم لوگوں نے اچھا کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)