27759- عن سعيد بن جبير أن امرأة من أهل الكوفة كتبت إلى ابن عباس بكتاب فيه: إني امرأة مستحاضة أصابني بلاء وضر وإني أدع الصلاة الزمان الطويل، وإن علي بن أبي طالب سئل عن ذلك فتاني أن أغتسل عند كل صلاة فقال ابن عباس: اللهم لا أجد لها إلا ما قال علي غير أنها تجمع بين الظهر والعصر بغسل واحد، والمغرب والعشاء بغسل واحد وتغتسل للفجر، فقيل له: إنه يشق عليها؟ قال: لو شاء الله لابتلاها بأمثل من ذلك". "عب، ص".
27759 ۔۔۔ سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ اہل کوفہ کی ایک عورت نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کو خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا : میں ایک مستحاضہ عورت ہوں میں سخت آزمائش اور مصیبت میں مبتلا ہوگئی ہوں کیا میں طویل زمانے کے لیے نماز چھوڑ دوں حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے استحاضہ کے متعلق سوال کیا گیا انھوں نے مجھے فتوی دیا کہ میں ہر نماز کے وقت غسل کرو ۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : میں تو اس عورت کے لیے وہی حل پاتا ہوں جو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اسے بتایا ہے ہاں البتہ وہ ظہر اور عصر کی نماز ایک غسل میں جمع کرے مغرب اور عشاء ایک غسل سے پڑھ لے اور فجر کے لیے الگ سے غسل کرے ابن عباس (رض) سے کہا گیا اس طرح تو یہ عورت شدید مشکل میں مبتلا ہوجائے گی ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اگر اللہ تبارک وتعالیٰ چاہتے تو اس سے بڑی آزمائش میں اسے مبتلا کردیتے ۔ (رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور)