28104- " استشفوا بما حمد الله به نفسه قبل أن يحمده خلقه، وبما مدح الله به نفسه "الحمد لله" و "قل هو الله أحد" فمن لم يشفه القرآن فلا شفاه الله". ابن قانع عن رجاء الغنوي
28104 ۔۔۔ شفا طلب کر اس (کلام) کے ذریعہ جس کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی قبل اس کے کہ مخلوق اس کی حمد بیان کرے اور اس (کلام) کے ذریعہ جس کے ساتھ اللہ نے اپنی توصیف کی (یعنی الحمد للہ اور قل ھو اللہ احمد) بس جس شخص کو قرآن نے شفا نہ دی (یعنی وہ قرآن کی قرات سے شفایاب نہ ہوا) پس اللہ نے اس کو شفا نہیں پہنچائی (یا یہ کہ اللہ اس کو شفا نہ دے ۔ (ابن قانع عن رجاء الغنوی) پہلا ترجمہ اولی معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ بددعا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شیوہ نہیں منادی (رح) نے فیض القدر میں کہا ہے کہ رجاء غنوی کا نام منبہ بن سعد ہے۔ ذھبی نے تاریخ الصحابہ (رض) میں اس حدیث کی عدم صحت کی طرف اشارہ کیا ہے۔