28405- "أعيذك بالله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد من شر ما تجد، تعوذ بها فإنها تعدل بثلث القرآن ومن تعوذ بها فقد تعوذ بنسبة الله التي رضيها لنفسه". الحكيم - عن عثمان.
28405 ۔۔۔ ” اعیذک باللہ الاحد الصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احمد من شر ما تجد “۔ اس دعا سے تعویذ حاصل کر پس بیشک یہ تہائی قرآن کے برابر ہے اور جس نے اس سے پناہ لی اس نے اللہ کی اس نسبت سے پناہ حاصل کی جس کو اللہ نے اپنے لیے پسند کیا ۔ ترجمہ : ۔۔۔ میں تجھ کو پناہ دیتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو تجھے ہو رہی اللہ کی جو احمد ہے صمد ہے جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ اس کو کسی نے جنا اور جس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ (حکیم ترمذی عن عثمان بن ابی العاص) 1 ۔ اس جملہ (اعیذک ماتجد) کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مخاطب سے کہا جارہا ہے کہ میں تجھے یہ کہتا ہوں کہ اس طرح تعوذ پڑھ : ” اعوذ باللہ الا حدالصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد من شر ما اجد، “۔ (واللہ اعلم)