hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 28465

.

كنز العمال

28465
Kanz al-Ummal
28465- "مسند أسامة بن شريك " أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه عنده كأنما على رؤوسهم الطير قال: فسلمت عليه وقعدت فجاءت الأعراب فسألوه فقالوا: يا رسول الله نتداوى؟ قال: نعم تداووا فإن الله تعالى لم يضع داء إلا وضع له دواء غير داء واحد الهرم قال: فكان أسامة بن شريك حين كبر يقول: هل ترون لي من دواء الآن قال: وسألوه عن أشياء هل علينا حرج في كذا وكذا؟ قال: عباد الله وضع الله الحرج إلا امرأ اقتضى امرأ مسلما ظلما فذاك الذي حرج وهلك، قالوا: ما خير ما أعطي الناس يا رسول الله قال: خلق حسن. "ط، حم" والحميدي، "د، ت" وقال حسن صحيح، "ن، هـ" وأبو نعيم في المعرفة.
28465 ۔۔۔ (مسند اسامہ بن شریک ) اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ کے صحابہ کرام (رض) آپ کے پاس موجود تھے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے تھے (یعنی بالکل مؤدبانہ سکوت کی حالت میں تھے ) کہتے ہیں کہ میں نے سلام کیا اور آپ کے پاس بیٹھ گیا پس دیہات کے لوگ آگئے اور انھوں نے آپ سے سوال کیا : کہنے لگے اے اللہ کے رسول : کیا ہم داودارو کریں ؟ ارشاد فرمایا ہاں اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی داو بھی اتاری سوائے ایک بیماری کے یعنی بڑھاپا ۔ راوی کہتے ہیں کہ پس جب اسامہ بن شریک عمر رسیدہ ہوئے تو کہتے تھے کہ کیا تم اب میرے لیے کوئی دوا پاتے ہو ؟ کہتے ہیں کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ اشیاء کے بارے میں سوال کیا کہ کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں کوئی حرج ہے ؟ ارشاد فرمایا اللہ کے بندو ! اللہ نے حرج کو معاف کردیا مگر ایک آدمی سے کہ جس نے کسی مسلمان کی ظلما حق تلفی کی پس یہ وہ آدمی ہے جو گناہ گار ہوا اور ہلاکت میں گرفتار ہوا ۔ عرض کیا وہ سب سے بہتر چیز جو لوگوں کو عطا کی گئی کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا خوش اخلاقی ۔ (ابو داؤد طیاسی ، مسند احمد ، حمیدی ، ابو داؤد ترمذی ، ترمذی (رح) کہتے ہیں کہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (نسائی ابن ماجہ ، ابو نعیم فی المعرفہ)