hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 28489

.

كنز العمال

28489
Kanz al-Ummal
28489- عن عمار بن بشر عن أبي بشر شيخ من أهل البصرة قال: كنت آتي معاذة العدوية وأخف بها فأتيتها يوما فقالت: يا أبا بشر ألا أعجبك؟ شربت دواء للمشي فاشتد بطني فابعث لي بنبيذ الجر فائتني منه بقدح فأتيتها بقدح نبيذ جر فدعت بمائدتها فوضعت القدح عليها، ثم قالت اللهم إن كنت تعلم أني سمعت عائشة تقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهي عن نبيذ الجر فاكفنيه بما شئت قال: فانكفأ القدح واهراق ما فيه وأذهب الله تعالى ما كان في بطنها من الأذى، وأبو بشر حاضر لذلك. "كر".
28489 ۔۔۔ عمار بن بشر سے مروی ہے کہ وہ روایت کرتے ہیں اہل بصرہ کے ایک شیخ ابو بشر سے اور وہ کہتے ہیں کہ میں معاذہ عدویہ کے پاس آیا کرتا تھا اور (اخف بہا) ان کو گل خطمی لگایا کرتا تھا (رض) (تاکہ سر دھل جائے وخف یخف ، گل خطی کو بھگو کر پھیٹینا تاکہ وہ صابن کی طرح گاڑھا لیس دار ہوجائے اور بالوں میں لگانے کے قابل ہوجائے) ۔ دوسرا ترجمہ : ۔۔۔ اور لپک کرجاتا تھا ان کے پاس (یہ آخف کا ترجمہ ہے۔ مگر یہ بعید معلوم ہوتا ہے) نیز اس صورت میں الیہا ہونا چاہیے پس میں ایک دن ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا اے ابو بشر ! کیا میں تمہیں ایک عجیب بات نہ بتاؤں ؟ میں نے پیٹ چلنے کی ایک دوا پی مگر میرا پیٹ اور سخت ہوگیا ۔ پس اب تو میرے لیے مٹکے کا نبیذ منگوا اور اس میں سے ایک پیالہ میرے واسطے لے آ، سو میں مٹکے کی نبیذ کا پیالہ ان کے لے آیا ، انھوں نے اپنی چوکی منگوائی اور وہ پیالہ اس پر رکھ دیا ، پھر کہا اے میرے اللہ ! اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے عائشہ (رض) سے یہ سنا کہ ” وہ کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مٹکوں کے نبیذ سے روکتے ہوئے سنا “ تو تو میری طرف سے اس کو ، جس طرح چاہے کافی ہوجا ۔ راوی کہتے ہیں کہ پس فورا وہ پیالہ الٹا ہوگیا اور اس میں جو تھا وہ گرگیا اور اللہ تعالیٰ شانہ نے وہ تکلیف جو ان کے پیٹ میں تھی ختم کردی ، اور ابو بشر اس واقعہ میں موجود تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)