28504- عن ابن أبي مليكة قال: إن عمر بن الخطاب مر بامرأة مجذومة وهي تطوف بالبيت فقال لها: يا أمة الله لا تؤذي الناس لو جلست في بيتك فجلست فمر بها رجل بعد ذلك فقال: إن الذي كان نهاك قد مات فاخرجي، قالت: ما كنت لأطيعه حيا وأعصيه ميتا. مالك والخرائطي في اعتلال القلوب.
28504 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) ایک مجذومہ عورت کے پاس سے گذرے وہ بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی آپ نے اس سے فرمایا : اے اللہ کی بندی لوگوں کا تکلیف نہ پہنچا اگر تو اپنے گھر میں بیٹھ رہے (تو بہتر ہوگا) پس وہ عورت جا بیٹھی ۔ اس واقعہ کے بعد ایک شخص اس کے پاس سے گذرا اور کہا جس شخص نے تجھے روکا تھا وہ فوت ہوچکا پس نکل کھڑی ہو وہ بولی میں ایسی نہیں ہوں کہ زندگی میں عمر (رض) کی اطاعت کروں اور وفات کے بعد ان کی نافرنی کروں ۔ (روایت کیا مالک نے اور روایت کیا خرائطی نے اعتلال القلوب میں )