hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 28513

.

كنز العمال

28513
Kanz al-Ummal
28513- عن أم طارق مولاة سعد بن عبادة قالت: جاء النبي صلى الله عليه وسلم إلى سعد فاستأذن فسكت سعد ثم أعاد فسكت سعد ثم أعاد فسكت سعد فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم فأرسلني وراءه فقال: إنه لم يمنعني أن آذن لك إلا أنا أردنا أن تزيدنا فسمعت صوتا على الباب يستأذن ولم أر شيئا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أنت: فقالت أم ملدم، فقال: لا مرحبا بك ولا أهلا أتريدين إلى أهل قباء؟ قالت: نعم قال: فاذهبي إليهم". ابن منده، "كر".
28513 ۔۔۔ ام طارق سے جو سعد بن عبادہ (رض) کی آزاد کردہ باندی ہیں روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سعد کے پاس تشریف لائے اور اذن مانگا سعد چپ رہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر دہرایا سعد (پھر بھی) چپ رہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اذن مانگا سعد اب بھی خاموش رہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ تھے (اذن مانگنے سے مراد سلام ) دینے سے صرف اس بات نے روکا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی فرمائیں ۔ (ام طارق کہتی ہیں کہ) میں نے دروازہ پر ایک آواز سنی کہ کوئی اجازت طلب کررہا ہے اور میں کسی کو دیکھ نہیں رہی ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو کون ہے ؟ اس نے کہا ام ملدم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (لا مرحبا بک ولا اھلا) نہ تو کشادہ جگہ آتی اور نہ اپنوں میں یعنی یہاں تیری جگہ نہیں ہے۔ کیا تواھل قبا کی طرف جانے کو تیار ہے ؟ اس نے کہا ہاں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پس ان کی طرف چلی جا (ابن عساکر)