28517- عن عثمان بن عفان قال: مرضت فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني فعوذني يوما فقال: بسم الله الرحمن الرحيم أعيذك بالله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد من شر ما تجد ثلاث مرات فشفاني الله تبارك وتعالى، فلما استقل رسول الله صلى الله عليه وسلم قائما قال لي: يا عثمان تعوذ بها فما تعوذت بمثلها. ابن زنجويه في ترغيبه، "ع، عق" والبغوي في مسند عثمان لا أعلم حدث به عن علقمة بن مرثد غير حفص بن سليمان وهو أبو عمرو صاحب القراءة وفي حديثه لين والحاكم في الكنى، "خط".
28517 ۔۔۔ عثمان بن عفان (رض) سے مروی ہے کہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کرتے تھے ایک دن آپ نے میری عیادت کی اور مجھ پر تعوذ پڑھا ۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ پڑھا ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اعیذک باللہ الاحد الصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد من شر ماتجد ۔ تین بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا اے عثمان ان کلمات سے تعوذ کر اس کی مثل کا تعوذ تو نہ کرسکے گا (روایت کیا ابن زنجویہ نے ترغیب میں اور ابو یعلیل عقیلی اور خطیب نے اور حاکم نے کتاب الکنی میں اور بغوی نے مسند عثمان میں ) بغوی کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ علقمہ بن مرثد سے اس حدیث کو سوائے حفص بن سیلمان کی کسی نے روایت کیا ہو اور حفص بن سلیمان اب عمرو صاحب القراء ۃ ہیں اور ان کی حدیث میں لین (نرمی یعنی تثبت کی کمی ) ہے۔