hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 28520

.

كنز العمال

28520
Kanz al-Ummal
28520- عن عمر أنه دخل هو وأبو بكر على النبي صلى الله عليه وسلم وبه حمى شديدة فلم يرد عليهما شيئا فخرجا فأتبعهما برسول فقال: إنكما دخلتما علي فلما خرجتما من عندي نزل الملكان فجلس أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي فقال الذي عند رجلي: ما به؟ قال الذي عند رأسي: حمى شديدة قال الذي عند رجلي: عوذه فقال: بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء يؤذيك، ومن كل نفس حاسدة وطرفة عين والله يشفيك خذها فلتهنك فما نفث ولا نفخ وكشف ما بي فأرسلت إليكما لأخبركما. ابن السني في عمل يوم وليلة، "طب" في الدعاء، قال الحافظ ابن حجر في أماليه: في سنده ضعف.
28520 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ خود اور حضرت ابوبکر (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کو سخت بخار تھا سو آپ نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا اور یہ دونوں صاحب چلے گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پیچھے ایک قاصد بھیجا (یہ حاضر ہوئے ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں میرے پاس آئے اور جب میرے پاس سے گئے تو دو فرشتے اترے ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور ایک میرے پاؤں کے پاس پھر جو میرے پاؤں کے پاس بیٹھا تھا بولا : ان کو کیا ہے ؟ پس سرہانے بیٹھے ہوئے فرشتہ نے جواب دیا کہ سخت بخار ! پانتی والے نے کہا ان کو تعویذ کر (یعنی آپ پر کلمات تعوذ پڑھ ) پس وہ گویا ہوا : بسم اللہ ارقیک واللہ یشفیک من کل داء یوذیک ومن کل نفس حاسدۃ وطرفۃ عین واللہ یشفیک خذھا فلتھنک : (اس کو لے مبارک ہو یہ تجھے ) پس اس فرشتہ نے نہ دم کیا نہ پھونکا اور میری تکلیف جاتی رہی ۔ میں نے تمہیں بلوایا تاکہ تمہیں خبر کروں ۔ (ابن السنی فی عمل الیوم والیلۃ طبرانی ) حافظ ابن حجر نے اپنی امالی میں کہا کہ اس کی سند میں ضعیف ہے۔