28525- عن محمد بن حاطب قال تناولت قدرا لنا فأحرقت يدي فانطلقت بي أمي إلى رجل جالس في الجبانة فقالت له: يا رسول الله فقال: لبيك وسعديك، ثم ادنتني منه فجعل ينفث ويتكلم لا أدري ما هو فسألت أمي بعد ذلك ما كان يقول قالت: كان يقول: أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت. "ش".
25 285 ۔۔۔ محمد بن حاطب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ہنڈیا کو پکڑا (جس سے) میرا ہاتھ جل گیا میری والدہ مجھے ایک صاحب کے پاس جو بلند ہموار زمین میں تشریف فرما تھے لے گئی اور ان کو یوں پکارا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان صاحب نے فرمایا : (لبیک وسعدیک) میں تیرے پاس ہوں اور تجھے سعادت بخشتا ہوں) پھر میری والدہ نے مجھے آپ کے نزدیک کردیا آپ پھونکتے رہے اور (کچھ) بولتے رہے مجھے نہیں پتہ کہ وہ کیا کلام تھا پھر میں نے اس کے بعد اپنی والدہ سے پوچھا کہ آپ کیا پڑھ رہے تھے انھوں نے کہا یہ پڑھ رہے تھے ۔ (اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی الاشافی الا انت) رواہ ابن ابی شیبۃ ۔