hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 28644

.

كنز العمال

28644
Kanz al-Ummal
28644- "مسند عمرو بن سلمة" عن سليمان بن يسار عن سلمة بن صخر البياضي أنه جعل امرأته عليه كظهر أمه حتى يمضي رمضان فسمنت وتربعت فوقع عليها في النصف من رمضان فأتى النبي صلى الله عليه وسلم كأنه يعظم ذلك فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أتستطيع أن تعتق رقبة؟ فقال: لا قال: أو تستطيع أن تصوم شهرين متتابعين؟ فقال: لا قال: أفتستطيع أن تطعم ستين مسكينا؟ قال: لا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا فروة بن عمرو أعطه ذلك الفرق وهو مكتل يأخذ خمسة عشر صاعا أو ستة عشر صاعا فليطعمه ستين مسكينا: فقال: على أفقر مني فوالذي بعثك بالحق ما بين لابتيها أهل بيت أحوج إليه منا فضحك النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: اذهب به إلى أهلك. "عب".
28644 ۔۔۔ مسند عمرو بن سلمہ، سلیمان بن یسار سے مروی ہے وہ سلمہ بن صحر البیاضی سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے (یعنی سلمہ نے) اپنی بیوی کو اپنے اوپر ایسے قرار دے دیا جیسے ان کی ماں کی پشت (اور ظہار کی یہ قرار داد) رمضان کے گذرنے تک تھی ، پس وہ (اس عرصہ میں) موٹی تازی ہوگئی ، اور تروتازہ (یعنی فربہ) ہوگئی سو وہ اس پر نصف رمضان میں (ہی) جا پڑے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے گویا کہ وہ اس عمل کو گراں محسوس کر رہے تھے سو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : کیا تو طاقت رکھتا ہے اس کی کہ ایک غلام آزاد کرے ؟ انھوں نے کہا نہیں ! فرمایا کیا اس کی طاقت رکھتا ہے کہ دو مہینے متواتر روزے رکھے ؟ کہا نہیں ! فرمایا کہا پھر یہ کرسکتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے ؟ کہا نہیں ! پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گویا ہوئے کہ اے فروہ بن عمرویہ فرق اس کو دیدے اور فرق ایک ٹوکرا ہے جس میں پندرہ 15 یا 16 سولہ صاع آتے ہیں پس یہ شخص ساٹھ مسکینوں کو یہ ٹوکرا کھلا دے ۔ وہ بولا کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کروں ؟ پس قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اس شہر (مبارک) کی دونوں وادیوں کے درمیان کوئی شخص ہم سے زیادہ اس کا محتاج نہیں ۔ پس (اس بات کو سن کر) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے ۔ پھر فرمایا کہ اس کو اپنے گھر والوں کے پاس لے جا۔ (رواہ عبدالرزاق)