2880 – "حملة القرآن ثلاثة: أحدهم اتخذه متجرا، والآخر يزهو به حتى لهو أزهى به من مزامير (3) على منبر فيقول: والله لا ألحن ولا يعييني فيه حرف فتلك الطائفة شرار أمتي، وحمله آخر فسر له (1) جوفه وألهمه قلبه فاتخذ قلبه محرابا، منه في عافية ونفسه منه في بلاء فأولئك أقل في أمتي من الكبريت الأحمر". (أبو نصر السجزي في الإبانة وابن السني والديلمي عن الحسن عن أنس) قال أبو نصر غريب لم يروه غير مؤمل بن عبد الرحمن وفيه مقال والمحفوظ عن الحسن قوله.
2880 ۔۔ حاملین قرآن تین طرح کے ہیں۔ ایک، جس نے اس کو ذریعہ تجارت بنا لیا۔ دوسرا، جس نے اس کو فخر و مباہات کا ذریعہ بنا لیا وہ منبر پر گانے بجانے کی طرح خوب فخر کرتا ہے کہتا ہے اللہ کی قسم مجھ سے غلطی نہیں ہوسکتی کوئی ایک حرف بھی مجھ سے چھوٹ نہیں سکتا۔ تو یہ گروہ میری امت کے بدترین گروہ ہیں۔ اور ایک اور گروہ نے اس کو اٹھایا اور اس کا سینہ اس کے ساتھ ٹھنڈا ہو اور اس کے دل میں اس کا الہام ہوا اور اس نے اپنے دل کو محراب بنا لیا۔ پس یہ عافیت میں ہے لیکن اس کا نفس مصیبت میں ہے۔ اور ایسے لوگ میری امت میں کبریت احمر کی طرح قلیل التعداد ہیں۔ (ابو نصر السجزی فی الابانۃ وا بن السنی والدیلمی بروایت الحسین عن انس (رض))
ابو نصر کہتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے اور اس کو مومل بن عبدالرحمن کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا۔ اور اس میں کلام ہے۔ البتہ حسن سے ان کا قول محفوظ ہے۔