28858- " من غدا يريد العلم يتعلمه لله فتح له باب إلى الجنة، وفرشت له الملائكة أكتافها وصلت عليه ملائكة السماوات وحيتان البحور وللعالم على العابد من الفضل كفضل القمر ليلة البدر على أصغر كوكب في السماء والعلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما لكنهم ورثوا العلم، فمن أخذه أخذ بحظه، وموت العالم مصيبة لا تجبر وثلمة لا تسد وهو نجم طمس، وموت قبيلة أيسر من موت عالم". "طب، هب" عن أبي الدرداء مر الحديث برقم "28823".
28858 ۔۔۔ جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلتا ہے اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے فرشتے اس کے لیے پر بچھاتے ہیں اس کے لیے آسمانوں کے فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں اور سمندر کی مچھلیاں اس کے لیے استغفار کرتی ہیں عالم کی عابد پر ایسی فضلیت ہے جیسے چودھویں رات کے چمکتے ہوئے چاند کی فضیلت چھونے سے آسمانی ستارے پر علماء انبیاء کے ورثہ ہیں۔ انبیاء دینار و درہم وارثت میں نہیں چھوڑتے البتہ انبیاء وراثت میں علم چھوڑتے ہیں جو شخص علم حاصل کرے وہ وافر مقدار میں حاصل کرے عالم کی موت ایک مصیبت ہے جس کا جبیرہ ناممکن ہوتا ہے اور اس کی موت ایک دراڑ ہے جو بند نہیں ہونے پاتی عالم چمکتا ہوا ستارہ ہوتا ہے جو ماند پڑجاتا ہے پورے قبیلے کا مرجانا عالم کی موت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا (رواہ الطبرانی والبیھقی فی شعب فی شعب الایمان عن ابی الدرداء)