hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 28926

.

كنز العمال

28926
Kanz al-Ummal
28926- إن لهذا الدين إقبالا وإدبارا، ألا وإن من إقبال هذا الدين أن تفقه القبيلة بأسرها حتى لا يبقى إلا الفاسق أو الفاسقان ذليلان فيها إن تكلما قهرا واضطهدا أو يلعن آخر هذه الأمة أولها، ألا وعليهم حلت اللعنة حتى يشربوا الخمر علانية حتى تمر المرأة بالقوم فيقوم إليها بعضهم فيرفع بذيلها كما يرفع بذنب النعجة فقائل يقول يومئذ: ألا واريتها وراء الحائط فهو يومئذ فيهم مثل أبي بكر وعمر فيكم، فمن أمر يومئذ بالمعروف ونهى على المنكر فله أجر خمسين ممن رآني وآمن بي وأطاعني، وبايعني. "طب" عن أبي أمامة.
28926 ۔۔۔ اس دین کا عروج بھی ہے اور زوال بھی ہے اس دین کا عروج یہ ہے کہ پورے کا پورا قبیلہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو حتی کہ صرف ایک یا دو اشخاص فاسق (دین سے دور) ہوئے ہیں وہ بھی ذلیل و خوار سمجھے جاتے ہیں اگر بات کرتے بھی ہیں تو مظلوم ومقہور ہوتے ہیں اور (زوال یہ ہے کہ) اس امت کے آخر میں آنے والا پہلے آنے والے پر لعنت کرے گا جبکہ وہی لعنت کے سزاوار ہوں گے اور نوبت یہاں پر تک پہنچ جائے گی کہ لوگ سرعام اعلانیہ شراب پئیں گے اور ایک عورت لوگوں کے پاس سے گزرے گی ایک بدبخت اٹھے گا عورت کا دامن اٹھا کر اس سے زنا کرے گا جس طرح بھیڑ دم اٹھالیتی ہے اس وقت انھیں دیکھ کر نکیر کرنے والا کہے گا : ارے ! اسے پس دیوار لے جاتے نکیر کرنے والا ان اس وقت ایسا ہی ہوگا جیسے تمہارے اندر ابوبکر وعمر، اس وقت جو شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے گا اس کے لیے ایسے پچاس آدمیوں کا اجر وثواب ہوگا جنہوں نے مجھے دیکھا ہو مجھ پر ایمان لائے ہوں میری اطاعت کی ہو اور میرے ہاتھ پر بیعت کی ہو۔ (رواہ الطبرانی عن ابی امامۃ)