hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 2902

.

كنز العمال

2902
Kanz al-Ummal
2902- "أخر عني يا عمر، إني خيرت فاخترت، فقد قيل لي: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} لو أعلم أني لو زدت على السبعين غفر له لزدت". "ت ن عن عمر".
2902: " چھوڑو اے عمر ! مجھے اختیار دیا گیا تھا چنانچہ میں نے اختیار کرلیا۔ مجھے کہا گیا :
استغفر لہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم۔ " التوبہ : 80 ۔
تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہے) اگر ان کے لیے ستر دفعہ بھی بخشش مانگوگے تو بھی خدا ان کو نہ بخشے گا۔
پھر فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ ستر دفعہ سے زیادہ استغفار کرنے پر اس کی مغفرت ہوجائے گی تو زیادہ بھی استغفار کرتا۔ (ترمذی، نسائی برویت عمر (رض))
تشریح : رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیص میں اس کو کفن دلایا اور اپنا لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈالا، نماز جنازہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی۔ حضرت عمر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دامن مبارک پکڑ کر التجاء کی کہ اس منافق کو اس قدر اعزاز نہ بخشیں تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔
پھر بعد میں ارشاد خداوندی نازل ہوا :
اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مرجائے تو کبھی اس کے (جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ (سورة التوبہ : 84)