29090- "علماء هذه الأمة رجلان: رجل آتاه الله علما فبذله للناس ولم يأخذ عليه طمعا ولم يشتر به ثمنا فذلك يستغفر له حيتان البحر ودواب البر، والطير في جو السماء ويقدم على الله تعالى سيدا شريفا حتى يوافق المرسلين، ورجل آتاه الله علما فبخل به عن عباد الله وأخذ عليه طمعا وشرى به ثمنا فذلك يلجم بلجام من النار يوم القيامة وينادي مناد: هذا الذي آتاه الله علما فبخل به عن عباد الله وأخذ عليه طمعا، واشترى به ثمنا وكذلك حتى يفرغ من الحساب. "طس" عن ابن عباس.
29090 ۔۔۔ میری امت کے دو شخص علماء ہیں ، ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے علم عطاء کیا ہو اور وہ لوگوں میں علم پھیلا رہا ہو اشاعت علم میں اس کی مطمح نظر طمع نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ علم کے بدلہ میں رقم لیتا ہے اس عالم کے لیے سمندر کی مچھلیاں خشکی چوپائے فضاء میں اڑتے ہوئے پرندے (سبھی) استغفار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے پاس شریف سردار بن کر حاضر ہوگا حتی کہ پیغمبروں کی موافقت اسے نصیب ہوگی ، دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں پھیلانے میں بخل کرتا ہو طمع کا شکار ہو اور علم کے بدلہ میں رقم لیتا ہو قیامت کے دن اس عالم کو آگ کی بنی ہوئی لگام ڈالی جائے گی اور ایک فرشتہ صدا بلند کرے گا ، یہ وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم دیا اس نے اشاعت علم میں بخل کیا طمع کا شکار رہا اور علم کے بدلہ میں پیسے کو ترجیح دی فرشتہ اسی طرح صدا لگاتا رہے گا حتی کہ رب تعالیٰ حساب وکتاب سے فارغ ہوجائے۔ (رواہ الطبرانی ، عن ابن عباس (رض))