2923- "الأحزاب" "إني ذاكر لك أمرا، ولا عليك ألا تعجلي حتى تستأمري أبويك، إن الله تعالى قال: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} إلى قوله {عَظِيماً} ". "ت2 ن هـ عن عائشة".
2923: میں تجھے ایک بات ذکر کروں گا اور تو اس میں فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا حتی کہ اپنے والدین سے مشورہ نہ کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
یا ایہا النبی قل لازواجک۔ الی قولہ عظیما۔ ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت عائشہ (رض)۔
تشریح : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) کو مخاطب ہو کر مذکورہ ارشاد فرمایا تھا کہ خدا کا یہ حکم نازل ہوا ہے اس میں غور کرکے والدین سے مشورہ کرکے مجھے جواب دینا فرمان الہی کا ترجمہ ہے :
اے پیغمبر ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواہش رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے دوں اور اچھی طرح سے رخصت کروں۔ اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (جنت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکی کرنے والی ہیں ان کے لیے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ بعض بیویوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فدہ ابی و امی سے زیادہ نان و نفقہ کا مطالبہ کیا تھا۔ (احزاب :28 ۔ 29)
جس کی وجہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنگ دل ہوئے تو عرش والے کو بھی بیویوں کا مطالبہ ناگوار گزرا اس لیے فرمان نازل کیا۔
چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عائشہ (رض) سے بہت محبت تھی اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا کہ فیصلہ میں جلدی نہ کرنا اور والدین سے مشورہ کرلینا کیونکہ وہ یہی مشورہ دیں گے کہ اللہ و رسول کو نہ چھوڑو۔ بلکہ تھوڑی دنیا پر قناعت کرلو۔ چنانچہ حضرت عائشہ (رض) نے فورا فرمایا اس میں مشاورت کی کیا ضرورت میں آپ کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتی، زندگی جیسے بھی گزرے گزار لوں گی۔ اس جواب پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فداہ ابی و امی بہت خوش ہوئے۔