2934- "المدثر" "فتر عني الوحي فترة، فبينا أنا أمشي سمعت صوتا من السماء، فرفعت بصري
قبل السماء، فإذا أنا بالملك الذي أتاني في غار حراء على سرير، بين السماء والأرض، فجثت منه فرقا، حتى هويت إلى الأرض، فأتيت خديجة فقلت دثروني دثروني، فدثرت، فجاء جبرئيل فقال برجله: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} ". "الطيالسي حم م عن جابر".
2934: سورة المدثر۔ مجھ سے وحٰ ایک زمانہ تک منقطع رہی۔ ایک مرتبہ میں جا رہا تھا کہ آسمان سے ایک آواز سنی۔ میں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی۔ دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں مجھے ملا تھا ۔ آسمان و زمین کے درمیان ایک (عظیم) تخت پر (جلوہ افروز) ہے۔ میں گھبراہٹ کے مارے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اور زمین بوس ہوگیا۔ پھر میں (اس فرشتے کے جانے کے بعد) خدیجہ (رض) کے پاس آیا اور بولا : وترونی و ترونی۔ مجھے چادر اوڑھاؤ۔ چنانچہ مجھے چادر اوڑھا دی گئی پھر جبرائیل (علیہ السلام) (دو بار) تشریف لائے اور مجھے لات لگا کر کہنے لگے :
یا ایہا المدثر قم فانذر وربک فکبر وثیابک فطھر والرجز فاھجر۔ (سورة المدثر ابتدائی آیات)
اے (محمد) جو چادر لپیٹے پڑے ہو۔ اٹھو اور (لوگوں کو) ڈراؤ۔ اور اپنے پروردگار کی تعریف بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور ناپاکی سے دور رہو۔ (الطیالسی، مسند احمد، صحیح مسلم بروایت جابر (رض))