29362- عن علي قال: يا طالب العلم إن العلم ذو فضائل كثيرة، فرأسه التواضع، وعينه البراءة من الحسد، وأذنه الفهم، ولسانه الصدق وحفظه الفحص وقلبه حسن النية، وعقله معرفة الأشياء والأمور الواجبة، ويده الرحمة، ورجله زيارة العلماء، وهمته السلامة، وحكمته الورع، ومستقره النجاة، وقائده العافية ومركبه الوقار وسلاحه لين الكلمة، وسيفه الرضاء وقوسه المداراة وجيشه مجاورة العلماء وماله الأدب، وذخيرته اجتناب الذنوب وزاده المعروف ومأواه الموادعة ودليله الهدى ورفيقه صحبة الأخيار. "خط" في الجامع.
29362 ۔۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے طالب علم ! علم کے بیشمار فضائل ہیں چنانچہ تواضع سرمایہ علم ہے اس کی آنکھ حسد سے بیزار ہونا ہے ، اس کا کان فہم ہے ، اس کی زبان صدق ہے ، تحقیق اس کی حفاظت ہے حسن نیت اس کا دل ہے اشیاء اور امور واجبہ کی معرفت اس کی عقل ہے رحمت اس کا ہاتھ ہے علماء کی زیارت اس کی ٹالگ ہے اس کا قصد سلامتی ہے اس کی حکمت تقوی ہے نجات اس کی جائے قرار ہے عافیت اس کا قائد ہے وقار اس کی سواری ہے ، نرم گوئی اس کا اسلحہ ہے رضاء اس کی تلوار ہے خاطر ومدارات اس کی کمان ہے علماء کے گرد رہنا اس کا لشکر ہے ادب اس کا مال ہے گناہوں سے اجتناب اس کا جمع شدہ خزانہ ہے بھلائی اس کا توشہ ہے موادعت اس کا ٹھکانا ہے سیرت اس کی دلیل ہے اور اچھے لوگوں کی صحبت اس کا رفیق سفر ہے۔ (رواہ الخطیب فی الجامع)