2938- الران2 الذي ذكر الله" {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} . "حم ت ك ن هـ حب هب عن أبي هريرة".
2938: " الران " جس کا اللہ نے اپنے فرمان میں ذکر کیا : کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون۔ مطففین : 14 ۔
دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے یں۔ ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، مستدرک الحاکم، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، شعب للبیہقی، بروایت ابوہریرہ (رض))
تشریح : تفسیر روح المعانی میں اس آیت کے ذیل میں یہ حدیث مکمل ذکر کی گئی ہے جس سے اس کا مطلب یونہی طرح سمجھ آجاتا ہے فرمان نبوی (علیہ السلام) ہے، بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے پس اگر وہ توبہ کرلے اور اس گناہ کو چھوڑ کر اللہ سے استغفار کرلے تو اس کا صیقل و صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ (بجائے توبہ و استغفار کے) دوبارہ گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ زیادہ ہوجاتا ہے حتی کہ ہوتے ہوتے اس کا پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ پس یہی ران ہے یعنی زنگ۔