29424- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يأتي على الناس زمان يخلق القرآن في قلوبهم يتهافتون تهافتا قيل: يا رسول الله: وما تهافتهم؟ قال: يقرأ أحدهم فلا يجد حلاوة ولا لذة يبدأ أحدهم بالسورة وإنما نهمته آخرها، فإن عملوا ما نهوا عنه قالوا: ربنا اغفر لنا، وإن تركوا الفرائض قالوا لا يعذبنا الله ونحن لا نشرك به شيئا، أمرهم رجاء ولا خوف فيهم أولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمى أبصارهم أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها". الديلمي.
29424 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ قرآن مجید ان کے دلوں میں بوسیدہ ہوجائے گا اور وہ لگا تار پستی میں گرتے چلے جائیں گے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی پستی کیا چیز ہے ؟ فرمایا : ایک شخص قرآن پڑھے گا اور اس کی حلاوت اور لذت نہیں پائے گا وہ ایک سورت شروع کرے گا اور آخر تک پہنچ جائے گا اگر ان سے ممنوعہ امور صادر ہوجائیں تو کہہ دیں گے : اے ہمارے رب ہماری مغفرت فرما اور اگر فرائض کو چھوڑ دیں گے کہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب نہیں دے گا ہم نے شرک تھوڑا ہی کیا ہے امید کے متوالے ہوں گے لیکن ان میں خوف نام کی چیز نہیں ہوگی انہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے انھیں بہرہ اور اندھا کردیا ہے کیا وہ قرآن مجید میں غور وفکر نہیں کرتے یا پھر ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں۔ (رواہ الدیلمی)