29431- عن الهرماس بن حبيب عن أبيه عن جده أنه صلى مع عمر بن الخطاب المغرب، فلما انصرف دور من حصى المسجد فألقى عليها رداءه ثم استلقى ثم قال: هل ناءت المرزم بعد؟ فلم يجبه أحد قلت: يا أمير المؤمنين وما المرزم؟ قال نسر الطائر مرزم الخريف قلت: يا أمير المؤمنين فإنا ندعو المرزم السماك قال: نسر الطائر مرزم الخريف. ابن جرير.
29431 ۔۔۔ ھرماس بن حبیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ نماز مغرب پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے اور مسجد کے فرش پر کنکریاں ہموار کرکے چادر بچھائی اور لیٹ گئے اور پھر فرمایا : کیا مرزم (جاڑا) اس کے بعد دور گیا ہے ؟ کسی نے جواب نہ دیا میں نے کہا : اے امیر المومنین ! مرزم کیا ہے ؟ فرمایا : گدھ پرندہ خریف کا مرزم ہے میں نے کہا : اے امیر المومنین ہم تو مچھلی کو مرزم کہتے ہیں فرمایا گدھ پرندہ خریف کا مرزم ہے۔ (رواہ ابن جریر)