29433- عن الربيع بن سبرة الجهني قال: لما غزا عمر وأراد الخروج إلى الشام خرجت معه، فلما أراد أن يدلج نظرت فإذا القمر في الدبران فأردت أن أذكر ذلك لعمر فعرفت أنه يكره ذكر النجوم، فقلت له: يا أبا حفص انظر إلى القمر ما أحسن استواءه هذه الليلة؛ فنظر فإذا هو في الدبران فقال: قد عرفت ما تريد يا ابن سبرة تقول: إن القمر في الدبران والله ما نخرج بشمس ولا بقمر
إلا بالله الواحد القهار. "خط، كر" في كتاب النجوم.
29433 ۔۔۔ ربیع بن سیرہ جہنی روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے دور خلاف میں جب فتوحات کا دائرہ کار وسیع ہوا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے شام جانے کا قصد کیا میں بھی آپ کے ساتھ ہو لیا جب آپ (رض) نے رات کے اول حصہ میں چلنے کا ارادہ کیا تو میں نے دیکھا کہ چاند منزل وبران میں ہے ، میں نے آپ (رض) سے اس کا تذکرہ کرنا چاہا لیکن مجھے خیال آیا کہ آپ (رض) نجوم کے تذکرہ کو ناپسند کرتے ہیں میں نے عرض کی : اے ابو حفص چاند کی طرف دیکھیں آج رات اس کا مطلع کتنا خوبصورت ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے ابن سیرہ میں جانتا ہوں تم کیا چاہتے ہو ۔ ؟ تم کہنا چاہتے ہو کہ چاند منزل وبران میں ہے۔ اللہ کی قسم ! ہم سورج کے بھروسے پر نکلتے ہیں اور نہ ہی چاند کے بھروسہ پر ہم تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے نکلتے ہیں۔ (رواہ الخطیب وابن عساکر فی کتاب النجوم)