29443- عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس وأبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل المسجد فرأى جمعا من الناس على رجل فقال: "ما هذا؟ قالوا: "يا رسول الله رجل علامة، قال: وما العلامة؟ قالوا: أعلم الناس بأنساب العرب وبالشعر وبما اختلف فيه العرب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هذا علم لا ينفع وجهالة لا تضر". الديلمي.
29443 ۔۔۔ سفیان ، ابن جریج ، عطاء ابن عباس (رض) کی سند سے حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے آپ نے مسجد میں لوگوں کا جم غفیر دیکھا اور یہ لوگ ایک شخص کے پاس جمع تھے آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی ، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ شخص بڑا علامہ ہے۔ فرمایا : کیسا علامہ ہے عرض کی : یہ عرب کے انساب اشعار اور جنگوں کے حالات کا ماہر ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ علم ایسا ہے کہ جس کا ہونانفع بخش نہیں اور اس سے جاہل رہنا باعث ضرر نہیں ۔ (رواہ الدیلمی)