29520- عن علي قال: إن من حق العالم أن لا تكثر عليه السؤال ولا تعنته في الجواب، وأن لا تلح عليه إذا أعرض، ولا تأخذ بثوبه إذا كسل، ولا تشير إليه بيدك، وأن لا تغمزه بعينيك، وأن لا تسأل في مجلسه وأن لا تطلب زلته وإن زل تأنيت أوبته وقبلت فيئته، وأن لا تقول قال فلان خلاف قولك وأن لا تفشي له سرا، وأن لا تغتاب عنده أحدا وأن تحفظه شاهدا وغائبا وأن تعم القوم بالسلام وأن تخصه بالتحية، وأن تجلس بين يديه وإن كانت له حاجة سبقت القوم إلى خدمته وأن لا تمل من طول صحبته إنما هو كالنخلة تنتظر متى يسقط عليك منها منفعة، وإن العالم بمنزلة الصائم المجاهد في سبيل الله، فإذا مات العالم انثلمت في الإسلام ثلمة لا تسد إلى يوم القيامة وطالب العلم يشيعه سبعون ألفا من مقربي السماء. المرهبي وابن عبد البر في العلم.
29520: عالم کا حق یہ ہے کہ کثرت سے اس سے سوالات نہ کئے جائیں جواب دینے میں اسے مشقت میں نہ ڈالا جائے جب وہ پہلو تہی کرے تم اس کے پیچھے نہ پڑجاؤ اس کے کپڑے نہ پکڑو اپنے ہاتھ سے اس کی طرف اشارے نہ کرو آنکھوں سے بھی اس کی طرف اشارے نہ کرو اس کی مجلس میں اس سے سوال نہ کرو اس کے پھسلنے کی طلب میں نہ رہو اگر پھسل جائے تو اس کے واپس لوٹنے کی امید رکھو اس کی بات کو قبول کرو ، عالم سے یوں نہ کہو کہ تم نے فلاں کے خلاف قول کیا ہے تم اس کا راز افشاء نہ کرو عالم کے پاس کسی کی غیبت مت کرو یہ کہ خواہ وہ موجود ہو یا غائب ہو اس کی حفاظت کرو یہ کہ لوگوں میں عمومی سلام کرو اور عالم کو خصوصی سلام پیش کرو عالم کے سامنے بیٹھو اگر عالم کو کوئی کام پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لیے حاضر ہو عالم کی پاس زیادہ دیر بیٹھ کر اسے اکتاہٹ میں مت ڈالو وہ کھجور کی مانند ہے تو اس انتظار میں ہے کہ کب گرنے پائے گی ، چونکہ اس میں تمہارا نفع ہے عالم اس روزہ دار کی طرح ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہو۔ جب عالم مرجاتا ہے اسلام میں دراڑ پڑجاتی ہے پھر وہ دراڑ تا قیامت پر نہیں ہونے پاتی ، طالب علم کے ساتھ بطور مشابہت کے ستر ہزار فرشتے چلتے ہیں۔ (رواہ المرھبی وابن عبدالبر فی العلم)