29773- عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي بكر أن رجلا كاتب غلاما له فنجمها2 نجوما فأتى بمكاتبته كلها فأبى أن يأخذها إلا نجوما، فأتى المكاتب عمر، فأرسل عمر إلى مولاه، فجاء فعرضت عليه فأبى أن يأخذها فقال عمر: فأني أطرحها في بيت المال وقال للمولى: خذها نجوما وقال للمكاتب: اذهب حيث شئت. "ق".
29773 ۔۔۔ عبدالعزیز بن رفیع ابوبکر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کتابت پر اپنا غلام آزاد کردیا اور بدل کتابت کی قسطیں مقرر کردیں ، غلام بدل کتابت کی پوری رقم لے کر حاضر ہوا مالک نے یک مشت رقم لینے سے انکار کردیا پھر مکاتب سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس گیا اور ان سے شکایت کی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مالک کو اپنے پاس بلوایا مالک جب حاضر ہوا اسے رقم پیش کی مگر اس نے لینے سے انکار کردیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا میں یہ رقم بیت المال میں رکھتا ہوں مالک سے کہا تم بیت المال سے قسطوں میں لیتے رہو مکاتب سے فرمایا : تم جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاؤ ۔ رواہ البیہقی)